Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3707 (سنن ابن ماجہ)

[3707] إسنادہ ضعیف

واصل بن السائب وأبوسورۃ:ضعیفان (تقریب: 7383،ضعیف) والسند ضعفہ البوصیري

انوار الصحیفہ ص 510

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ وَاصِلِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي سَوْرَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللہِ ہَذَا السَّلَامُ فَمَا الِاسْتِئْذَانُ قَالَ يَتَكَلَّمُ الرَّجُلُ تَسْبِيحَةً وَتَكْبِيرَةً وَتَحْمِيدَةً وَيَتَنَحْنَحُ وَيُؤْذِنُ أَہْلَ الْبَيْتِ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا:ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! یہ سلام(تو ہمیں معلوم)ہے لیکن اجازت طلب کرنے کا کیا مطلب ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی کوئی بات کہے،سبحان اللہ کہہ دے،اللہ اکبر کہہ دے،الحمد للہ کہہ دے یا کھانس دے۔(مقصد یہ ہے کہ)گھر والوں کو معلوم کرادے (کہ میں اندر آنا چاہتا ہوں۔)