Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3719 (سنن ابن ماجہ)

[3719] إسنادہ ضعیف

زمعۃ: ضعیف

ومن أجلہ ضعفہ البوصیري

انوار الصحیفہ ص 510

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ وَہْبِ بْنِ عَبْدِ بْنِ زَمْعَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ وَہْبِ بْنِ زَمْعَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فِي تِجَارَةٍ إِلَی بُصْرَی قَبْلَ مَوْتِ النَّبِيِّ ﷺ بِعَامٍ وَمَعَہُ نُعَيْمَانُ وَسُوَيْبِطُ بْنُ حَرْمَلَةَ وَكَانَا شَہِدَا بَدْرًا وَكَانَ نُعَيْمَانُ عَلَی الزَّادِ وَكَانَ سُوَيْبِطُ رَجُلًا مَزَّاحًا فَقَالَ لِنُعَيْمَانَ أَطْعِمْنِي قَالَ حَتَّی يَجِيءَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ فَلَأُغِيظَنَّكَ قَالَ فَمَرُّوا بِقَوْمٍ فَقَالَ لَہُمْ سُوَيْبِطٌ تَشْتَرُونَ مِنِّي عَبْدًا لِي قَالُوا نَعَمْ قَالَ إِنَّہُ عَبْدٌ لَہُ كَلَامٌ وَہُوَ قَائِلٌ لَكُمْ إِنِّي حُرٌّ فَإِنْ كُنْتُمْ إِذَا قَالَ لَكُمْ ہَذِہِ الْمَقَالَةَ تَرَكْتُمُوہُ فَلَا تُفْسِدُوا عَلَيَّ عَبْدِي قَالُوا لَا بَلْ نَشْتَرِيہِ مِنْكَ فَاشْتَرَوْہُ مِنْہُ بِعَشْرِ قَلَائِصَ ثُمَّ أَتَوْہُ فَوَضَعُوا فِي عُنُقِہِ عِمَامَةً أَوْ حَبْلًا فَقَالَ نُعَيْمَانُ إِنَّ ہَذَا يَسْتَہْزِئُ بِكُمْ وَإِنِّي حُرٌّ لَسْتُ بِعَبْدٍ فَقَالُوا قَدْ أَخْبَرَنَا خَبَرَكَ فَانْطَلَقُوا بِہِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخْبَرُوہُ بِذَلِكَ قَالَ فَاتَّبَعَ الْقَوْمَ وَرَدَّ عَلَيْہِمْ الْقَلَائِصَ وَأَخَذَ نُعَيْمَانَ قَالَ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَی النَّبِيِّ ﷺ وَأَخْبَرُوہُ قَالَ فَضَحِكَ النَّبِيُّ ﷺ وَأَصْحَابُہُ مِنْہُ حَوْلًا

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا:نبی ﷺ کی وفات سے ایک سال پہلے (کا واقعہ ہے کہ)حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تجارت کے لئے بصریٰ روانہ ہوئے۔ان کے ساتھ حضرت نعیمان اور حضرت سویبط بن حرملہ رضی اللہ عنہما بھی تھے۔یہ دونوں حضرات غزوہ بدر میں شریک تھے۔حضرت نعیمان زادراہ (کھانے پینے کے سامان) کے ذمہ دار تھے۔سویبط رضی اللہ عنہ بہت مزاحیہ طبیعت کے تھے۔انہوں نے نعیمان رضی اللہ عنہ سے کہا:مجھے کھانا دیجئے۔انہوں نے کہا:حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آجائیں (ان کی اجازت سے دوں گا۔) سویبط رضی اللہ عنہ نے کہا:(تم نے مجھےکھانا نہیں دیا،اس لئے)میں آپ کو پریشان کروں گا۔(اس کے بعد سفر کے دوران میں)ان کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا۔سویبط رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا:کیا تم لوگ مجھ سے میرا ایک غلام خریدو گے؟انہوں نے کہا:ہاں۔انہوں نے کہا:وہ غلام ذراباتونی ہے۔وہ تم سے کہے گا: میں آزاد ہوں۔اگر اس کی یہ بات سن کر تم نے اسے چھوڑدینا ہے تو(ابھی سے خریدنے سے انکار کردواور)میرے غلام کا معاملہ خراب نہ کرو۔انہوں نے کہا:نہیں،ہم آپ سے وہ غلام خریدیں گے (اور سودا منسوخ نہیں کریں گے۔) چنانچہ ان لوگوں نے دس اونٹنیوں کے عوض ان(سویبط رضی اللہ عنہ)سے انہیں(نعیمان رضی اللہ عنہ کو غلام سمجھ کر)خرید لیا۔پھر آکر ان کے گلے میں پگڑی یا رسی ڈال دی۔(اور انہیں قابو کرلیا۔)نعیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ شخص (سویبط رضی اللہ عنہ)آپ لوگوں سے مذاق کررہا ہے۔میں تو آزاد ہوں،غلام نہیں۔انہوں نے کہا:اس نے ہمیں(پہلے ہی)یہ بات بتادی تھی(کہ تم آزاد ہونے کا دعویٰ کروگے۔)چنانچہ وہ لوگ انہیں پکڑ کر لے گئے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور لوگوں نے انہیں یہ واقعہ بتایا۔انہوں نے قافلے والوں کے پیچھے جاکر ان کی اونٹنیاں واپس کیں اور نعیمان رضی اللہ عنہ کو(ان سے)واپس لیا۔جب یہ حضرات نبی ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو آپ کو بھی یہ پورا قصہ سنایا،چنانچہ نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک سال تک اس واقعہ کو یاد کرکے ہنستے تھے۔