Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3801 (سنن ابن ماجہ)

[3801] إسنادہ ضعیف

صدقۃ بن بشیر وثقہ ابن ماکولا (الإکمال 1/ 291)

وقدامہ بن ابراہیم: وثقہ ابن حبان وحدہ.

قال معاذ علي زئي: قدامہ بن ابراہیم الجمحی: ذکرہ ابن حبان فی الثقات (5/ 319،7/ 340) وقال ابن عبد البر فی حدیثہ: ’’واما اسنادہ عن ابی سلمۃ فھو الصحیح،وباللہ التوفیق‘‘ (التمھید: 3/ 185) وقال الذھبي: ’’صویلح‘‘ (تاریخ الاسلام: 8/ 519) وقال الھیثمي فی حدیثہ: ’’وبقية رجالہ ثقات‘‘ (مجمع الزوائد: 7321) وقال البوصیری فی حدیثہ: ’’ہذا إسناد صحيح علی شرط ابن حبان‘‘ (اتحاف الخیرہ المہرۃ: 3/ 411 ح 3000) فالحدیث حسن،والحمدللہ

انوار الصحیفہ ص 512

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ بَشِيرٍ مَوْلَی الْعُمَرِيِّينَ قَالَ سَمِعْتُ قُدَامَةَ بْنَ إِبْرَاہِيمَ الْجُمَحِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّہُ كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَہُوَ غُلَامٌ وَعَلَيْہِ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ قَالَ فَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ حَدَّثَہُمْ أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللہِ قَالَ يَا رَبِّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْہِكَ وَلِعَظِيمِ سُلْطَانِكَ فَعَضَّلَتْ بِالْمَلَكَيْنِ فَلَمْ يَدْرِيَا كَيْفَ يَكْتُبَانِہَا فَصَعِدَا إِلَی السَّمَاءِ وَقَالَا يَا رَبَّنَا إِنَّ عَبْدَكَ قَدْ قَالَ مَقَالَةً لَا نَدْرِي كَيْفَ نَكْتُبُہَا قَالَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ أَعْلَمُ بِمَا قَالَ عَبْدُہُ مَاذَا قَالَ عَبْدِي قَالَا يَا رَبِّ إِنَّہُ قَالَ يَا رَبِّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْہِكَ وَعَظِيمِ سُلْطَانِكَ فَقَالَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمَا اكْتُبَاہَا كَمَا قَالَ عَبْدِي حَتَّی يَلْقَانِي فَأَجْزِيَہُ بِہَا

حضرت قدامہ بن ابراہیم جمحی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے جب کہ وہ لڑکے تھے اور انہوں نے عصفر کے رنگے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔(ایک بار)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا: اللہ کے ایک بندے نے کہا:[یَا رَبِّ! لَکَ الۡحَمۡدُ کَمَا یَنۡبَغِی لِجَلَالِ وَجۡھِکَ وَلِعَظِیمِ سُلۡطَانِکَ] اے میرے رب! میں تیری تعریف کرتا ہوں جیسے تیری ذات کی جلالت ِ شان اور تیری عظیم سلطنت کے لائق ہے۔یہ کلام (اعمال لکھنے والے) دونوں فرشتوں کے لئے مشکل ہوگیا۔انہیں پتہ نہ چلا کہ اسے کس طرح لکھیں (کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی عظمت اور اس کی سلطنت واقتدار کی شوکت کی پیمائش ممکن نہیں کہ اتنی تعریف لکھ دیتے۔)وہ اوپر آسمانوں میں گئے اور عرض کیا! یارب! تیرے بندے نے ایک بات کہی ہے،ہمیں معلوم نہیں کہ اسے کس طرح لکھیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا،حالانکہ اسے زیادہ معلوم تھا جو اس کے بندے نے کہا:میرے بندنے کیا کہا؟انہوں نے کہا:یارب! اس نے کہا: اے میرے رب! میں تیری تعریف کرتا ہوں جیسے تیری ذات کی جلالت ِ شان اور تیری عظیم سلطنت کے شایاں ہے۔اللہ عزوجل نے ان (فرشتوں) سے فرمایا: اسے ایسے ہی لکھ دو جیسے میرے بندے نے کہا ہے حتی کہ جب وہ مجھے ملے گا تومیں خود اسے اس کا ثواب دوں گا۔