Sunan ibn Majah Hadith 707 (سنن ابن ماجہ)
[707] إسنادہ ضعیف
محمد بن خالد بن عبد اللہ الواسطي ضعیف (تقریب: 5846)
ولبعض الحدیث شواھد عند البخاري (603،604) ومسلم (377،378) وغیرھما
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيہِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ اسْتَشَارَ النَّاسَ لِمَا يُہِمُّہُمْ إِلَی الصَّلَاةِ فَذَكَرُوا الْبُوقَ فَكَرِہَہُ مِنْ أَجْلِ الْيَہُودِ ثُمَّ ذَكَرُوا النَّاقُوسَ فَكَرِہَہُ مِنْ أَجْلِ النَّصَارَی فَأُرِيَ النِّدَاءَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَہُ عَبْدُ اللہِ بْنُ زَيْدٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَطَرَقَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللہِ ﷺ لَيْلًا فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِلَالًا بِہِ فَأَذَّنَ قَالَ الزُّہْرِيُّ وَزَادَ بِلَالٌ فِي نِدَاءِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ فَأَقَرَّہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللہِ قَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي رَأَی وَلَكِنَّہُ سَبَقَنِي
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے مشورہ کیا کیوں کہ نماز (باجماعت) کے لئے(آنے میں) انہیں مشکل پیش آتی تھی۔(کیوں کہ بیک وقت جمع نہیں ہو پاتے تھے۔) حاضرین نے نرسنگے کا ذکر کیا لیکن آپ ﷺ نے یہودیوں (سے موافقت) کی وجہ سے اسے نا پسند فرمایا۔پھر انہوں نے ناقوس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے نصاری کی وجہ سے اسے نا پسند فرمایا۔اسی رات ایک انصاری صحابی سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو (خواب میں) اذان دکھائی گئی۔انصاری صحابی رسول اللہ ﷺ کے پاس رات کو آئے (اور اپنا خواب سنایا) چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے اذان کہی۔ایک روایت میں ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے صبح کی اذان میں ان الفاظ کا اضافہ فرمایا: (الصلاۃ خیر من النوم)’’نماز نیند سے بہتر ہے۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے اسے قائم رکھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اے اللہ کے رسول!مجھے بھی اس جیسا خواب آیا تھا لیکن وہ مجھ سے سبقت لے گئے