Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1053 (مشکوۃ المصابیح)

[1053] متفق علیہ، رواہ البخاري (644) و مسلم (251/ 651)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَہَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَی رِجَالٍ. وَفِي رِوَايَةٍ: لَا يَشْہَدُونَ الصَّلَاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْہِمْ بُيُوتَہُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُہُمْ أَنَّہُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَہِدَ الْعِشَاءَ . رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَلمُسلم نَحوہ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں،وہ اکٹھی ہو جائیں تو پھر میں نماز کے متعلق حکم دوں،اس کے لیے اذان دی جائے،پھر میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے،پھر میں ان لوگوں کے پیچھے جاؤں،اور ایک روایت میں ہے،جو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے نہیں آتے تو میں ان کے گھروں سمیت انہیں جلا دوں،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ان میں سے کسی کو پتہ چل جائے کہ وہ (مسجد میں) گوشت والی ہڈی یا دو بہترین پائے پائے گا تو وہ نماز عشاء میں ضرور حاضر ہو۔‘‘ بخاری۔مسلم میں بھی اسی طرح روایت ہے۔متفق علیہ۔