Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1330 (مشکوۃ المصابیح)

[1330] حسن واللفظ مرکب، رواہ أبو داود (864 و سندہ ضعیف و ھو بغیر ھذا اللفظ، 866 و سندہ صحیح و ھی الروایۃ الثانیۃ عندصاحب المشکوۃ) [و رواہ ابن ماجہ (1425 وسندہ ضعیف) و صححہ الحاکم (262/1) ووافقہ الذہبي]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عملہ صلَاتہ فَإِن صلحت فقد أَفْلح وأنجح وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ فَإِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِہِ شَيْءٌ قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَی: نظرُوا ہَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَيُكَمَّلُ بِہَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِہِ عَلَی ذَلِكَ . وَفِي رِوَايَةٍ: ((ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلَ ذَلِك ثمَّ تُؤْخَذ الْأَعْمَال حسب ذَلِك)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’بندے سے روز قیامت اس کے اعمال میں سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا،اگر وہ صحیح و درست ہوئی تو وہ فلاح و نجات پا گیا اور اگر وہ صحیح و درست نہ ہوئی تو پھر وہ ناکام و نا مراد ہو گا،اگر اس کے فرائض میں کوئی کمی ہوئی تو رب تبارک و تعالی فرمائے گا: دیکھو،کیا میرے بندے کے کچھ نوافل ہیں،تو اس طرح فرائض کی کمی کو ان (نوافل) سے پورا کر دیا جائے گا،پھر باقی اعمال کا حساب اسی طرح ہو گا۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے:’’پھر زکوۃ کا حساب بھی اسی طرح ہو گا اور پھر باقی اعمال کا حساب بھی اسی (مذکور مثال کی) طرح ہو گا۔‘‘ حسن واللفظ مرکب،رواہ ابوداؤد۔