Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1396 (مشکوۃ المصابیح)

[1396] إسنادہ حسن، رواہ أبو داود (1113) [و صححہ ابن خزیمۃ (1813)]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ: فَرَجُلٌ حَضَرَہَا بِلَغْوٍ فَذَلِكَ حَظُّہُ مِنْہَا. وَرَجُلٌ حَضَرَہَا بِدُعَاءٍ فَہُوَ رَجُلٌ دَعَا اللہَ إِنْ شَاءَ أَعْطَاہُ وَإِنْ شَاءَ مَنعہ. وَرجل حَضَرہ بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا فَہِيَ كَفَّارَةٌ إِلَی الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيہَا وَزِيَادَةِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَذَلِكَ بِأَنَّ اللہَ يَقُولُ: (مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا. .) رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تین قسم کے لوگ جمعہ کے لیے آتے ہیں: ایک تو وہ جس نے وہاں پہنچ کر لغو حرکت کی تو اسے اس سے بس یہی کچھ ملتا ہے۔دوسرا شخص دعا کرنے کے لیے حاضر ہوتا ہے۔وہ اللہ سے دعا کرتا ہے اگر وہ چاہے تو اسے عطا کرے اور اگر چاہے تو منع فرما دے۔جبکہ تیسرا شخص غور سے خطبہ سنتا ہے اور لغو حرکات سے بچتا ہے کسی مسلمان کی گردن پھلانگتا ہے نہ کسی کو ایذا پہنچاتا ہے۔تو وہ اس کے لیے سابقہ جمعہ اور مزید تین دن (کل دس دن) کے لیے کفارہ بن جاتا ہے۔اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’جو شخص ایک نیکی کرتا ہے تو اسے اس کا دس گنا اجر ملتا ہے۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ ابوداؤد۔