Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1429 (مشکوۃ المصابیح)
[1429] متفق علیہ، رواہ البخاري (5249) و مسلم (884/1)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَشَہِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ الْعِيدَ؟ قَالَ: نَعَمْ خَرَجَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَصَلَّی ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً ثُمَّ أَتَی النِّسَاءَ فَوَعَظَہُنَّ وَذَكَّرَہُنَّ وَأَمَرَہُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَرَأَيْتُہُنَّ يُہْوِينَ إِلَی آذَانِہِنَّ وَحُلُوقِہِنَّ يَدْفَعْنَ إِلَی بِلَالٍ ثُمَّ ارْتَفَعَ ہُوَ وَبِلَالٌ إِلَی بَيتہ
ابن عباس ؓ سے دریافت کیا گیا،کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز عید پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز عید کے لیے) تشریف لائے تو آپ نے نماز پڑھائی،پھر خطبہ ارشاد فرمایا،اور انہوں نے اذان و اقامت کا ذکر نہیں کیا،پھر آپ خواتین کے پاس تشریف لے گئے تو انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کے متعلق حکم فرمایا،میں نے انہیں دیکھا کہ وہ اپنے کانوں اور اپنی گردنوں سے زیور اتار کر بلال ؓ کے حوالے کر رہی ہیں،پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بلال ؓ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کی طرف چلے گئے۔متفق علیہ۔