Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1484 (مشکوۃ المصابیح)
[1484] متفق علیہ، رواہ البخاري (1059) و مسلم (912/24)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ فَزِعًا يَخْشَی أَنْ تَكُونَ السَّاعَةَ فَأَتَی الْمَسْجِدَ فَصَلَّی بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُہُ قَطُّ يَفْعَلُہُ وَقَالَ: ((ہَذِہِ الْآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللہُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِہِ وَلَكِنْ يُخَوِّفُ اللہُ بِہَا عِبَادَہُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَی ذِكْرِہِ وَدُعَائِہِ واستغفارہ))
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں،سورج گرہن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبراہٹ کے عالم میں کھڑے ہوئے جیسے قیامت آ گئی ہو،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور اس قدر قیام و رکوع اور سجدوں کو طویل کر کے نماز پڑھی کہ میں نے آپ کو ایسے کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا،اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’یہ نشانیاں جو اللہ بھیجتا ہے یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں ہوتیں،لیکن ان کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے،جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو تو تم اس کے ذکر،اس سے دعا کرنے اور اس سے مغفرت طلب کرنے کی طرف توجہ کرو (اور اس کی پناہ حاصل کرو)۔‘‘ متفق علیہ۔