Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1875 (مشکوۃ المصابیح)

[1875] متفق علیہ، رواہ البخاري (1420) و مسلم (2452/101)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا أَنَّ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ﷺ قُلْنَ لِلنَّبِيِّ ﷺ أَيُّنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا؟ قَالَ: أَطْوَلُكُنَّ يَدًا فَأَخَذُوا قَصَبَةً يَذْرَعُونَہَا فَكَانَت سَوْدَة أَطْوَلہنَّ يدا فَعلمنَا بعد أَنما كَانَت طُولُ يَدِہَا الصَّدَقَةَ وَكَانَتْ أَسْرَعَنَا لُحُوقًا بِہِ زَيْنَبُ وَكَانَتْ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ. رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسلم: ((أَسْرَعكُنَّ لُحُوقا بَين أَطْوَلكُنَّ يَدًا)) . قَالَتْ: فَكَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ؟ لِأَنَّہَا كَانَت تعْمل بِيَدِہَا وَتَتَصَدَّق

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعض ازواج مطہرات نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا،ہم میں سے سب سے پہلے آپ سے کون ملیں گی؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم میں سے جس کے ہاتھ زیادہ دراز ہیں۔‘‘ وہ لکڑی لے کر اپنے بازو ناپنے لگیں،تو سودہ ؓ کے ہاتھ ان میں سے زیادہ دراز تھے،پھر ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ ان کے ہاتھ لمبے ہونے سے مراد،صدقہ تھی،اور ہم میں سے زینب ؓ سب سے پہلے آپ سے جا ملیں،اور وہ صدقہ کرنا پسند کیا کرتی تھیں۔بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے: عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم میں لمبے ہاتھ والی مجھے سب سے پہلے ملے گی۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں: وہ یہ جاننے کے لیے ان میں سے کس کے ہاتھ دراز ہیں وہ باہم ہاتھ ناپا کرتی تھیں،پس زینب ؓ کے ہم میں سے ہاتھ زیادہ لمبے تھے،کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کیا کرتی تھیں۔متفق علیہ۔