Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1960 (مشکوۃ المصابیح)
[1960] سندہ ضعیف، رواہ الترمذي (682 وقال:’’ھذا حدیث غریب‘‘ کما یأتي: 1961) و ابن ماجہ (1642) ٭ الأعمش عنعن و الحدیث الآتي (1961) یغني عنہ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلم يفتح مِنْہَا بَاب الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْہَا بَابٌ وَيُنَادِي مُنَادٍ: يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أقصر ن وَلِلَّہِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَہ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے،جہنم کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھولا جاتا،اور جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا،اور منادی کرنے والا اعلان کرتا ہے: خیرو بھلائی کے طالب! آگے بڑھ،اور شر کے طالب! رک جا،اور اللہ کے لیے جہنم سے آزاد کردہ لوگ ہیں،اور ہر رات ایسے ہوتا ہے۔‘‘ سندہ ضعیف۔