Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2603 (مشکوۃ المصابیح)

[2603] إسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ (3013) و البیھقي في البعث والنشور (لم أجدہ، و في شعب الإیمان: 346) ٭ عبد اللہ بن کنانۃ و أبوہ مجھولان و قال البخاري في ھذا الحدیث: ’’لم یصح حدیثہ .‘‘

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن عبَّاسِ بنِ مِرْداسٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ دَعَا لِأُمَّتِہِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالْمَغْفِرَةِ فَأُجِيبَ: ((إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَہُمْ مَا خَلَا الْمَظَالِمَ فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْہُ)) . قَالَ: ((أَيْ رَبِّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ)) فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَہُ فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ فَأُجِيبَ إِلَی مَا سَأَلَ. قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَوِ قَالَ تبسَّمَ فَقَالَ لَہُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّ ہَذِہِ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيہَا فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ أَضْحَكَ اللہُ سِنَّكَ؟ قَالَ: ((إِنَّ عَدُوَّ اللہِ إِبْلِيسَ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي وَغَفَرَ لأمَّتي أخذَ الترابَ فَجعل يحشوہ عَلَی رَأْسِہِ وَيَدْعُو بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِہِ)) . رَوَاہُ ابْنُ مَاجَہْ وَرَوَی البيہقيُّ فِي كتاب الْبَعْث والنشور نحوَہ

عباس بن مرداس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وقوفِ عرفات میں اپنی امت کی مغفرت کے لیے دعا فرمائی تو قبولیت کا جواب آیا کہ ’’میں نے حقوق العباد کے سوا باقی سب گناہ معاف کر دیے،کیونکہ میں اس سے مظلوم کا حق لوں گا۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرض کیا:’’رب جی! اگر آپ چاہیں تو مظلوم کو جنت عطا کر دیں اور ظالم کو بخش دیں۔‘‘ لیکن اس قیام میں آپ کی دعا قبول نہ ہوئی،تو جب مزدلفہ میں صبح کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا دہرائی تو آپ کی دعا قبول کر لی گئی۔راوی بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہنسے یا تبسم فرمایا تو ابوبکر ؓ اور عمر ؓ نے عرض کیا: میرے والدین آپ پر قربان ہوں یہ تو ایسا وقت ہے کہ اس وقت آپ ہنسا نہیں کرتے تھے،آپ کو کس چیز نے ہنسایا،اللہ تعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے دشمن ابلیس کو جب پتہ چلا کہ اللہ عزوجل نے میری دعا قبول فرما کر میری امت کو بخش دیا ہے تو وہ اپنے سر میں مٹی ڈالنے لگا اور تباہی و ہلاکت کو پکارنے لگا،جب میں نے اس کی بے صبری دیکھی تو مجھے ہنسی آ گئی۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ ابن ماجہ و البیھقی۔