Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2643 (مشکوۃ المصابیح)
[2643] إسنادہ صحیح، رواہ أبو داود (1765) حدیث ابن عباس تقدم (1469) و حدیث جابر تقدم (1458)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ قُرْطٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ((إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللہِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ)) . قَالَ ثَوْرٌ: وَہُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي. قَالَ: وَقُرِّبَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ فطفِقْن يَزْدَلفْنَ إِليہِ بأيتہِنَّ يبدأُ قَالَ: فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُہَا. قَالَ فَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْہَمْہَا فَقُلْتُ: مَا قَالَ؟ قَالَ: ((مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَذَكَرَ حَدِيثَا ابنِ عبَّاسٍ وجابرٍ فِي بَاب الْأُضْحِية
عبداللہ بن قرط ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ کے نزدیک سب سے عظیم دن قربانی کا دن ہے،پھر (منیٰ میں) قرار پکڑنے (گیارہ ذوالحجہ) کا دن ہے۔‘‘ ثور ؒ نے فرمایا: اس سے قربانی کا دوسرا دن مراد ہے۔راوی بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانچ یا چھ قربانی کے اونٹ پیش کیے گئے،وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہونے لگے کہ آپ کس سے ابتدا فرمائیں گے۔راوی بیان کرتے ہیں: جب وہ پہلوں کے بل گر پڑیں تو آپ نے کوئی ہلکی سی بات کی جسے میں سمجھ نہ سکا،تو میں نے (اپنے پاس والے شخص سے) کہا: آپ نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے:’’جو شخص چاہے اس سے گوشت کاٹ کر لے جائے۔‘‘ ابوداؤد۔عبداللہ بن عباس ؓ اور جابر ؓ سے مروی حدیث باب الاضحیۃ میں ذکر کی گئی ہے۔اسنادہ صحیح،رواہ ابوداؤد۔