Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2655 (مشکوۃ المصابیح)

[2655] متفق علیہ، رواہ البخاري (83) و مسلم (1306/327، 1306/333)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًی لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَہُ فَجَاءَہُ رَجُلٌ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. فَقَالَ: ((اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ)) فَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. فَقَالَ: ((ارْمِ وَلَا حَرَجَ)) . فَمَا سُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ: ((افْعَلْ وَلَا حرج)) وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ: ((ارْمِ وَلَا حَرَجَ)) وأتاہُ آخرُ فَقَالَ: أفَضتُ إِلی البيتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ: ((ارْمِ وَلَا حَرَجَ))

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کی خاطر منیٰ میں وقوف فرمایا،لوگ آپ کے پاس آتے اور مسائل دریافت کرتے،ایک آدمی آپ کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا: میں نے لاعلمی میں قربانی سے پہلے سر منڈا لیا؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’قربانی کر لو،کوئی حرج نہیں۔‘‘ پھر ایک اور آدمی آیا تو اس نے عرض کیا: میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے لا علمی میں قربانی کر لی ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’(اب) کنکریاں مار لو،کوئی حرج نہیں۔‘‘ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جس چیز کی بھی تقدیم و تاخیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی فرمایا:’’اب کر لو،کوئی حرج نہیں۔‘‘ بخاری،مسلم۔اور مسلم کی روایت میں ہے: ایک آدمی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا،میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے سر مونڈ لیا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اب کنکریاں مار لو،کوئی حرج نہیں۔‘‘ پھر ایک اور آدمی آیا،اس نے عرض کیا،میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے طواف افاضہ کر لیا؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اب کنکریاں مار لو،کوئی حرج نہیں۔‘‘ متفق علیہ۔