Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2688 (مشکوۃ المصابیح)
[2688] متفق علیہ، رواہ البخاري (1814) و مسلم (1201/83)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ بِہِ وَہُوَ بِالْحُدَيْبِيَةَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ وَہُوَ مُحْرِمٌ وَہُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ وَالْقَمْلُ تہافت عَلَی وَجْہِہِ فَقَالَ: ((أَتُؤْذِيكَ ہَوَامُّكَ؟)) . قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: ((فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ)) . وَالْفَرَقُ: ثَلَاثَةُ آصُعٍ: ((أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّام أوانسك نسيكة))
کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں حدیبیہ کے مقام پر تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے،میں نے احرام باندھ رکھا تھا اور ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا جبکہ جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا تمہاری جوئیں تمہیں تکلیف دیتی ہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا،جی ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اپنا سر منڈا لو اور چھ مساکین کو ایک فرق (تقریباً سات کلو) اناج دو یا تین روزے رکھو یا ایک بکری ذبح کرو۔‘‘ متفق علیہ۔