Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2739 (مشکوۃ المصابیح)
[2739] متفق علیہ، رواہ البخاري (1883) و مسلم (1383/489)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعَكٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَی رَسُولِ اللہِ ﷺ ثُمَّ جَاءَہُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَی ثُمَّ جَاءَہُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَی فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خبثہا وتنصع طيبہا))
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تو اس اعرابی کو مدینہ میں بخار ہو گیا،وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا: محمد! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری بیعت واپس کر دیں،لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا،وہ پھر آیا اور کہا: میری بیعت واپس کر دیں،لیکن آپ نے انکار فرمایا،وہ پھر آپ کے پاس آیا تو اس نے کہا: میری بیعت توڑ دیں،لیکن آپ نے انکار فرمایا،وہ اعرابی (مدینہ) سے چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’مدینہ بھٹی کی طرح ہے کہ وہ بُری چیز کو نکال دیتا ہے جبکہ اچھی چیز کو وہ خالص بنا دیتا ہے۔‘‘ متفق علیہ۔