Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2762 (مشکوۃ المصابیح)

[2762] متفق علیہ، رواہ البخاري (52) و مسلم (1599/107)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَہُمَا مُشْتَبِہَاتٌ لَا يَعْلَمُہُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الشبہاب استبرَأَ لدِينہِ وعِرْضِہِ ومَنْ وقَعَ فِي الشبُّہَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَی حَوْلَ الْحِمَی يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيہِ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًی أَلَا وَإِنَّ حِمَی اللہِ مَحَارِمُہُ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّہُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلہ أَلا وَہِي الْقلب))

نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے،جبکہ ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں۔بہت سے لوگ انہیں نہیں جانتے،پس جو شخص شبہات سے بچ گیا تو اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا،اور جو شخص شبہات میں مبتلا ہو گیا تو وہ حرام میں مبتلا ہو گیا،جیسے وہ چرواہا جو چراگاہ کے آس پاس چراتا ہے،تو قریب ہے کہ وہ اس (چراگاہ) میں چرائے گا،سن لو! بے شک ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے،سن لو! بے شک اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں: سن لو! جسم میں ایک لوتھڑا ہے،جب وہ درست ہو جاتا ہے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے،اور جب وہ خراب ہو جاتا ہے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے،یاد رکھو! وہ دل ہے۔‘‘ متفق علیہ۔