Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2786 (مشکوۃ المصابیح)
[2786] رواہ البخاري (3842)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ غُلَامٌ يُخْرِّجُ لَہُ الْخَرَاجَ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْكُلُ مِنْ خَرَاجِہِ فَجَاءَ يَوْمًا بشيءٍ فأكلَ مِنْہُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَہُ الْغُلَامُ: تَدْرِي مَا ہَذَا؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا ہُوَ؟ قَالَ: كُنْتُ تَكَہَّنْتُ لِإِنْسَانٍ فِي الْجَاہِلِيَّةِ وَمَا أُحسِنُ الكہَانةَ إِلاَّ أَنِّي خدَعتُہ فلَقيَني فَأَعْطَانِي بِذَلِكَ فَہَذَا الَّذِي أَكَلْتَ مِنْہُ قَالَتْ: فَأَدْخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَدَہُ فَقَاءَ كُلَّ شَيْءٍ فِي بَطْنہ. رَوَاہُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں،ابوبکر ؓ کا ایک غلام تھا،وہ آپ کو خراج دیا کرتا تھا،اور ابوبکر ؓ اس کے خراج میں سے کھایا کرتے تھے،ایک روز وہ کچھ لے کر آیا تو ابوبکر ؓ نے اس میں سے کھایا۔غلام نے آپ سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا تھا؟ تو ابوبکر ؓ نے فرمایا: وہ کیا تھا؟ اس نے کہا: میں جاہلیت میں ایک انسان کے لیے کہانت کیا کرتا تھا،حالانکہ مجھے کہانت نہیں آتی تھی،میں نے تو اسے صرف دھوکہ ہی دیا تھا،وہ مجھے ملا ہے تو اس نے مجھے یہ عطا کیا ہے جس میں سے آپ نے کھایا ہے،وہ بیان کرتی ہیں،ابوبکر ؓ نے اپنا ہاتھ (منہ میں) ڈالا اور پیٹ کی ہر چیز قے کر ڈالی۔رواہ البخاری۔