Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2785 (مشکوۃ المصابیح)
[2785] إسنادہ ضعیف، رواہ أحمد (246/6 ح 26620) ٭ فیہ الزبیر بن عبید: مجھول و نافع مجھول الحال و ھو غیر مولی ابن عمر و مخلد بن الضحاک و ثقہ ابن حبان وحدہ .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ أُجَہِّزُ إِلَی الشَّامِ وَإِلَی مِصْرَ فَجَہَّزْتُ إِلَی الْعِرَاقِ فَأَتَيْتُ إِلَی أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَہَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ أُجَہِّزُ إِلَی الشَّامِ فَجَہَّزْتُ إِلَی العراقِ فقالتْ: لَا تفعلْ مالكَ وَلِمَتْجَرِكَ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: ((إِذَا سَبَّبَ اللہُ لِأَحَدِكُمْ رِزْقًا مِنْ وَجْہٍ فَلَا يَدَعْہُ حَتَّی يَتَغَيَّرَ لَہُ أَوْ يَتَنَكَّرَ لَہُ)) . رَوَاہُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَہ
نافع بیان کرتے ہیں،میں شام اور مصر کی طرف سامان تجارت بھیجا کرتا تھا،چنانچہ اب میں نے عراق کی طرف سامان بھیجنے کی تیاری کی تو میں ام المومنین عائشہ ؓ کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا،ام المومنین! میں شام کی طرف سامان تجارت بھیجا کرتا تھا،لیکن اب میں نے عراق کے لیے تیاری کی ہے،انہوں نے فرمایا: ایسے نہ کرو،تمہارے تجارتی مرکز کو کیا ہوا؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کی روزی کا کوئی سبب بنائے تو وہ اسے نہ چھوڑے جب تک کہ (عدم منافع کی وجہ سے) اس میں تبدیلی رونما نہ ہو یا اسے اس میں نقصان ہونے لگے۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ احمد و ابن ماجہ۔