Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2788 (مشکوۃ المصابیح)

[2788] إسنادہ ضعیف، رواہ البیھقي في شعب الإیمان (5771، نسخۃ محققۃ: 5387) [من طریق مالک عن زید بن أسلم بہ وھذا فی الموطأ (269/1)] ٭ السند منقطع، زید لم یدرک عمر رضي اللہ عنہ .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّہُ قَالَ: شَرِبَ عمر بن الْخطاب لَبَنًا وَأَعْجَبَہُ وَقَالَ لِلَّذِي سَقَاہُ: مَنْ أَيْنَ لَكَ ہَذَا اللَّبَنُ؟ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ وَرَدَ عَلَی مَاءٍ قَدْ سَمَّاہُ فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ وَہُمْ يَسْقُونَ فَحَلَبُوا لِي مِنْ أَلْبَانِہَا فَجَعَلْتُہُ فِي سِقَائِيَ وَہُو ہَذَا فَأَدْخَلَ عُمَرُ يَدَہُ فاسْتقاءَہ. رَوَاہُ الْبَيْہَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان

زید بن اسلم ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے دودھ پیا اور انہیں خوشگوار محسوس ہوا۔جس شخص نے دودھ پلایا تھا اس سے دریافت کیا کہ تو نے یہ دودھ کہاں سے حاصل کیا؟ اس نے بتایا کہ وہ ایک تالاب پر گیا جس کا اس نے نام لیا۔وہاں زکوۃ کے اونٹ تھے جن کو وہ پانی پلا رہے تھے،انہوں نے مجھے بھی ان کا دودھ دھو کر دیا میں نے دودھ کو اپنے مشکیزے میں ڈال لیا یہ وہ دودھ تھا۔یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور دودھ کی قے کر دی۔اسنادہ ضعیف،رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔