Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3061 (مشکوۃ المصابیح)

[3061] صحیح، رواہ مالک (513/2 ح 1119) و أحمد (225/4 ح 18143) والترمذي (2101 وقال: حسن صحیح) و أبو داود (2894) و ابن ماجہ (2724) [والدارمي (359/2 ح 2949) عن الزھري منقطعًا] ٭ قبیصۃ صحابي صغیر رضي اللہ عنہ و ھذا من مراسیل الصحابۃ و مراسیل الصحابۃ مقبولۃ .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَی أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ تَسْأَلُہُ مِيرَاثَہَا فَقَالَ لَہَا: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللہِ شَيْءٌ وَمَا لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ شَيْءٌ فَارْجِعِي حَتَّی أَسْأَلَ النَّاسَ فَسَأَلَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَعْطَاہَا السُّدُسَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللہ عَنہُ ہَل مَعَك غَيرہ؟ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغيرَة فأنفذہ لَہَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ ثُمَّ جَاءَتِ الْجدّة الْأُخْرَی إِلَی عُمَرَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ تَسْأَلُہُ مِيرَاثَہَا فَقَالَ: ہُوَ ذَلِك السُّدس فَإِن اجْتمعَا فَہُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِہِ فَہُوَ لَہَا. رَوَاہُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَابْن مَاجَہ

قبیصہ بن ذُویب بیان کرتے ہیں،دادی،نانی،ابوبکر ؓ کے پاس آئی اور اس نے اپنی میراث کے بارے میں آپ سے مسئلہ دریافت کیا،تو انہوں نے اس سے کہا: تمہارے لیے اللہ کی کتاب میں کوئی حصہ ہے نہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت میں،آپ جائیں حتی کہ میں لوگوں سے پوچھ لوں: انہوں نے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ ؓ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ نے اسے (یعنی دادی / نانی کو) چھٹا حصہ دیا،ابوبکر ؓ نے فرمایا: کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ تو محمد بن مسلمہ نے بھی ویسے ہی کہا جیسے مغیرہ نے کہا تھا،تو ابوبکر ؓ نے اس (دادی / نانی) کے متعلق اسے نافذ کر دیا،پھر ایک اور دادی / نانی عمر ؓ کے پاس آئی اور اپنی میراث کے متعلق دریافت کیا،تو انہوں نے فرمایا: وہ چھٹا حصہ ہی ہے،اگر تم دونوں اکٹھی ہوں تو وہ تم دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا،اور تم دونوں میں سے جو بھی اکیلی ہو گی تو وہ حصہ اسے ملے گا۔‘‘ صحیح،رواہ مالک و احمد و الترمذی و ابوداؤد و الدارمی و ابن ماجہ۔