Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3060 (مشکوۃ المصابیح)
[3060] إسنادہ ضعیف، رواہ أحمد (428/4، 429 ح 20088) و الترمذي (2099) و أبو داود (2896) ٭ قتادۃ مدلس و عنعن و فیہ علۃ أخری و ھي عنعنۃ الحسن بصري رحمہ اللہ .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ: إِن ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِہِ؟ قَالَ: ((لَكَ السُّدُسُ)) فَلَمَّا وَلَّی دَعَاہُ قَالَ: ((لَكَ سُدُسٌ آخَرُ)) فَلَمَّا وَلَّی دَعَاہُ قَالَ: ((إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ)) . رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں،ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا،میرا پوتا فوت ہو گیا ہے،اس کی میراث میں میرا کتنا حصہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تمہارے لیے چھٹا حصہ ہے۔‘‘ جب وہ واپس مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا:’’تمہارے لیے ایک اور چھٹا حصہ ہے۔‘‘ جب وہ واپس مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا:’’دوسرا چھٹا حصہ (زیادہ حق دار نہ ہونے کی وجہ سے) تمہارے لیے رزق ہے۔‘‘ احمد،ترمذی،ابوداؤد۔اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔اسنادہ ضعیف،رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد۔