Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3149 (مشکوۃ المصابیح)
[3149] سندہ ضعیف، رواہ أحمد (392/1۔ 393 ح 3720۔ 3721) و الترمذي (1105) و أبو داود (2118) و النسائي (89/6 ح 3279) و ابن ماجہ (1892) و الدارمي (142/2 ح 2208) و البغوي في شرح السنۃ (49/9۔ 50ح 2268) ٭ أبو عبیدۃ عن أبیہ منقطع و أبو إسحاق السبیعي مدلس و عنعن و رواہ عن أبي إسحاق عن أبی الأحوص عند أحمد مبترًا فسندہ معلول .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ التَّشَہُّدَ فِي الصَّلَاةِ وَالتَّشَہُّدَ فِي الْحَاجَةِ قَالَ: التَّشَہُّدُ فِي الصَّلَاةِ: ((التَّحِيَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّہَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَكَاتُہُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِينَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ)) . وَالتَّشَہُّدُ فِي الْحَاجَةِ: ((إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّہِ نَسْتَعِينُہُ وَنَسْتَغْفِرُہُ وَنَعُوذُ بِاللہِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسنَا من يہد اللہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا ہَادِيَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ)) . وَيَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ (يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسلمُونَ) (يَا أَيُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِي تساءلون وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللہَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا) (يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيما) رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي جَامِعِ التِّرْمِذِيِّ فَسَّرَ الْآيَاتِ الثَّلَاثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَزَادَ ابْنُ مَاجَہْ بَعْدَ قَوْلِہِ: ((إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّہِ نَحْمَدُہُ)) وَبَعْدَ قَوْلِہِ: ((من شرور أَنْفُسنَا وَمن سيئات أَعمالنَا)) وَالدَّارِمِيُّ بَعْدَ قَوْلِہِ ((عَظِيمًا)) ثُمَّ يَتَكَلَّمُ بِحَاجَتِہِ وَرَوَی فِي شَرْحِ السُّنَّةِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي خطْبَة الْحَاجة من النِّكَاح وَغَيرہ
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز میں تشہد پڑھنا سکھائی اور حاجت (نکاح وغیرہ) میں تشہد سکھائی،راوی بیان کرتے ہیں،نماز میں تشہد کے الفاظ یہ ہیں: ((التَّحِيَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ،السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّہَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَكَاتُہُ،السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِينَ،أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ)) ’’قولی،بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں،اے نبی! آپ پر سلامتی،اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں،ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘ اور کسی حاجت و ضرورت کے وقت پڑھا جانے والا تشہد یہ ہے: ((اِنَّ الْحَمْدَ لِلہِ نَسْتَعِیْنُہ وَنَسْتَغْفِرُہ وَنَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا،مِنْ یَّھْدِہِ اللہُ فَلَا مُضِلَّ لَہ،وَمَنْ یُّضْلِلْہُ فَلَا ھَادِیَ لَہ،وَاَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ،وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُہ)) ’’بے شک ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے،ہم اسی سے مدد چاہتے اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں،ہم اپنے نفوس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔جس کو اللہ ہدایت عطا فرما دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ تین آیات تلاوت فرماتے: (یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ امَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ۔) ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈر جاؤ جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے۔اور تم اس حال میں مرو کہ تم مسلمان ہو۔‘‘ (یَآیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مَّنْ نَّفْسِِ وَّاحِدَۃِِ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَآءً وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ بِہِ وَالَا رْ حَامَ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔) ’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک شخص (حضرت آدم ؑ) سے پیدا کیا،اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا،پھر ان دونوں سے بڑی تعداد میں مرد اور عورتیں پیدا کر کے انہیں روئے زمین پر پھیلا دیا اور ڈرو اللہ سے جس کے ذریعے تم اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے ہو،اور قطع رحمی سے بچو۔اللہ تعالیٰ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘ (یَآ اَیُّھَا الَّذِیْ امَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا یُّصْلِحْ لکُمْ اَعْمَالکُمْ وَیَغْفِرْلکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا۔) ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور درست بات کرو،وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرے وہ بہت بڑی کامیابی حاصل کر لے گا۔‘‘ اور جامع ترمذی میں ہے۔سفیان ثوری نے تینوں آیات کی وضاحت کی۔اور ابن ماجہ نے ((اِنَّ الْحَمْدَ لِلہِ)) کے بعد ((نَحْمَدُہُ)) اور ((مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا)) کے بعد ((وَمِنْ سَیَّئَاتِ اَعْمَالِنَا)) کا اضافہ نقل کیا اور دارمی نے (عَظِیْمًا) کے بعد اضافہ نقل کیا ہے کہ پھر اپنی حاجت و ضرورت کا تذکرہ کرے۔اور شرح السنہ میں ابن مسعود ؓ سے منقول ہے کہ اس تشہد کو نکاح کے خطبہ حاجت یا کسی دوسرے خطبہ میں پڑھے۔سندہ ضعیف،رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی و فی شرح السنہ۔