Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3228 (مشکوۃ المصابیح)
[3228] إسنادہ ضعیف، رواہ البیھقي في شعب الإیمان (5801، نسخۃ محققۃ: 5419) [و صححہ الحاکم (126/4 ح7160) ووافقہ الذہبي!] ٭ فیہ مسلم بن خالد: ضعیف و للحدیث شاھد عند الحاکم (ح7161) فیہ محمد بن عجلان مدلس وعنعن .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ((إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَی أَخِيہِ الْمُسْلِمِ فَلْيَأْكُلْ مِنْ طَعَامِہِ وَلَا يَسْأَلْ وَيَشْرَبْ مِنْ شَرَابِہِ وَلَا يَسْأَلْ)) رَوَی الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَة الْبَيْہَقِيّ فِي ((شُعَبِ الْإِيمَانِ)) وَقَالَ: ہَذَا إِنْ صَحَّ فَلِأَنَّ الظَّاہِرَ أَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يُطْعِمُہُ وَلَا يسْقِيہ إِلَّا مَا ہُوَ حَلَال عِنْدہ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جب تم میں سے کوئی ایک اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے تو وہ اس کے کھانے سے کھائے اور سوال نہ کرے (کہ یہ کہاں سے آیا ہے) اور وہ اس کے مشروب سے پیئے اور کچھ دریافت نہ کرے۔‘‘ امام بیہقی نے یہ تینوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں،اور فرمایا: اگر یہ صحیح ہے،تو ظاہر ہے کہ مسلمان اسے صرف وہی چیز کھلاتا پلاتا ہے جو اس کے نزدیک حلال ہوتی ہے۔اسنادہ ضعیف،رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔