Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3242 (مشکوۃ المصابیح)

[3242] متفق علیہ، رواہ البخاري (4942) و مسلم (1470/63)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَمَعَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((لَا يَجْلِدْ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَہُ جَلْدَ الْعَبْدِ ثُمَّ يُجَامِعْہَا فِي آخِرِ الْيَوْمِ)) وَفِي رِوَايَةٍ: ((يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَجْلِدُ امْرَأَتَہُ جَلْدَ الْعَبْدِ فَلَعَلَّہُ يُضَاجِعُہَا فِي آخِرِ يَوْمِہِ)) . ثُمَّ وَعَظَہُمْ فِي ضَحِكِہِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ فَقَالَ: ((لِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يفعل؟))

عبداللہ بن زمعہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح نہ مارے اور پھر وہ دن کے آخر پہر اس سے مجامعت کرے۔‘‘ اور دوسری روایت میں ہے:’’تم میں سے کوئی قصد کرتا ہے تو اپنی عورت کو غلام کی طرح مارتا ہے،اور پھر ممکن ہے کہ وہ اسی روز آخری پہر اس سے مجامعت کرے۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں گوز مارنے (ریح کی آواز) پر ہنسنے کے متعلق نصیحت کی تو فرمایا:’’تم میں سے کوئی ایسی چیز پر کیوں ہنستا ہے جو وہ خود کرتا ہے۔‘‘ متفق علیہ۔