Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3269 (مشکوۃ المصابیح)

[3269] سندہ ضعیف، رواہ أبو داود (2459) و ابن ماجہ (1762) ٭ الأعمش عنعن .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ وَنَحْنُ عِنْدہ فَقَالَت: زَوْجِي صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ وَلَا يُصَلِّي الْفَجْرَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَہُ قَالَ: فَسَأَلَہُ عَمَّا قَالَت فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ أَمَّا قَوْلُہَا: يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّہَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ وَقَدْ نَہَيْتُہَا قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((لَوْ كَانَتْ سُورَةً وَاحِدَةً لَكَفَتِ النَّاسَ)) . قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُہَا يُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ فَإِنَّہَا تَنْطَلِقُ تَصُوم وَأَنا رجل شَاب فَلَا أَصْبِر فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((لَا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِہَا)) وَأَمَّا قَوْلُہَا: إِنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإنَّا أہل بَيت قد عرف لنا ذَاك لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ: ((فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ يَا صَفْوَانُ فَصَلِّ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَہ

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں،ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک عورت آپ کے پاس آئی تو اس نے عرض کیا: میرا خاوند صفوان بن معطل،جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتا ہے،جب میں (نفلی) روزہ رکھتی ہوں تو وہ مجھے افطار کرنے کا حکم دیتا ہے،اور وہ سورج طلوع ہونے پر نماز فجر پڑھتا ہے۔راوی بیان کرتے ہیں،صفوان آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ہی تھا،راوی نے کہا: آپ نے اس چیز کے متعلق جو اس (عورت) نے کہا تھا صفوان سے دریافت کیا،تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! رہا اس کا یہ کہنا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتا ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دو سورتیں پڑھتی ہے۔حالانکہ میں نے اسے منع کیا ہے،راوی بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفوان سے فرمایا:’’اگر ایک ہی سورت ہوتی وہ لوگوں کے لیے کافی ہوتی۔صفوان نے کہا: رہا اس کا یہ کہنا کہ جب میں روزہ رکھتی ہوں تو وہ مجھے افطار کرا دیتا ہے۔تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ روزے رکھتی چلی جاتی ہے جبکہ میں نوجوان آدمی ہوں،میں (جماع سے) رُک نہیں سکتا،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزے نہ رکھے۔‘‘ اور اس کا یہ کہنا کہ میں سورج طلوع ہونے پر نماز پڑھتا ہوں،اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے گھرانے کے متعلق مشہور ہے کہ ہم سورج طلوع ہونے پر ہی بیدار ہوتے ہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’صفوان! جب تم بیدار ہو تب نماز پڑھ لیا کرو۔‘‘ سندہ ضعیف،رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔