Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3270 (مشکوۃ المصابیح)
[3270] إسنادہ ضعیف، رواہ أحمد (76/6 ح 24975) [و ابن ماجہ (1852) مختصرًا] ٭ فیہ علي بن زید بن جدعان: ضعیف .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُہَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَجَاءَ بِعِيرٌ فَسَجَدَ لَہُ فَقَالَ أَصْحَابُہُ: يَا رَسُولَ اللہِ تَسْجُدُ لَكَ الْبَہَائِمُ وَالشَّجَرُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ. فَقَالَ: ((اعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَأَكْرِمُوا أَخَاكُمْ وَلَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا وَلَوْ أَمَرَہَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ إِلَی جَبَلٍ أَسْوَدَ وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَی جَبَلٍ أَبْيَضَ كَانَ يَنْبَغِي لَہَا أَن تَفْعَلہُ)) . رَوَاہُ أَحْمد
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین و انصار کی جماعت میں تھے کہ اتنے میں ایک اونٹ آیا اور اس نے آپ کو سجدہ کیا۔آپ کے صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! چوپائے اور درخت آپ کو سجدہ کرتے ہیں،جبکہ ہم تو زیادہ حق دار میں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائی کی عزت کرو،اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے،اور اگر وہ اسے حکم دے کہ وہ جبلِ اصفر (زرد پہاڑ) سے جبلِ اسود (کالے پہاڑ) کی طرف اور جبلِ اسود کو جبلِ ابیض کی طرف پتھر منتقل کر دے تو اسے چاہیے کہ وہ ایسا ہی کرے۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ احمد۔