Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3303 (مشکوۃ المصابیح)
[3303] صحیح، رواہ مالک (776/2۔ 777 ح 1550 ببعض الاختلاف) و مسلم (537/33)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَن مُعَاوِيَة بنِ الحكمِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ جَارِيَةً كَانَتْ لِي تَرْعَی غَنَمًا لِي فَجِئْتُہَا وَقَدْ فَقَدَتْ شَاةً مِنَ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُہَا عَنْہَا فَقَالَتْ: أَكَلَہَا الذِّئْبُ فَأَسِفْتُ عَلَيْہَا وَكُنْتُ مَنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْہَہَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُہَا؟ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((أَيْنَ اللہُ؟)) فَقَالَتْ: فِي السَّمَاءِ فَقَالَ: ((مَنْ أَنَا؟)) فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُولَ اللہِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((أَعْتِقْہَا)) . رَوَاہُ مَالِكٌ وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ قَالَ: كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَی غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَہَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِنَا وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنْ صَكَكْتُہَا صَكَّةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ أفَلا أُعتِقُہا؟ قَالَ: ((ائتِني بہَا؟)) فأتيتُہ بِہَا فَقَالَ لَہَا: ((أَيْنَ اللہُ؟)) قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ قَالَ: ((مَنْ أَنَا؟)) قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللہ قَالَ: ((أعتِقْہا فإنَّہا مؤْمنةٌ))
معاویہ بن حکم ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا،اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی میری بکریاں چراتی تھی،میں اس کے پاس آیا تو میں نے ایک بکری نہ پائی،میں نے اس کے متعلق اس سے پوچھا تو اس نے کہا: اسے بھیڑیے نے کھا لیا ہے،میں اس سے ناراض ہوا،چونکہ میں اولاد آدم سے ہوں،میں نے اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا،(اور کسی وجہ سے) غلام آزاد کرنا مجھ پر واجب ہے،کیا میں اسے آزاد کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لونڈی سے پوچھا:’’اللہ کہاں ہے؟‘‘ اس نے کہا: آسمان میں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میں کون ہوں؟‘‘ اس نے عرض کیا،آپ اللہ کے رسول ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اسے آزاد کر دو۔‘‘ یہ مالک کی روایت ہے۔اور مسلم کی روایت میں ہے: انہوں (معاویہ بن حکم ؓ) نے کہا: میری ایک لونڈی تھی جو اُحد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چرایا کرتی تھی،ایک روز میں نے دیکھا کہ بھیڑیا ہماری بکریوں میں سے ایک بکری لے گیا،چونکہ میں آدم کی اولاد سے ہوں،میں بھی ناراض ہوتا ہوں جیسے وہ ناراض ہوتے ہیں،اس لیے میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (اور سارا واقعہ سنایا) آپ نے میری اس حرکت کو بڑا جرم قرار دیا،میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اسے میرے پاس لاؤ۔‘‘ میں اسے آپ کے پاس لے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا:’’اللہ کہاں ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا: آسمان میں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میں کون ہوں؟‘‘ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ مسلمان ہے۔‘‘ صحیح،رواہ مالک و مسلم۔