Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3304 (مشکوۃ المصابیح)

[3304] متفق علیہ، رواہ البخاري (4745) و مسلم (1492/1)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللہُ عَنہُ قَالَ: إِن عُوَيْمِر الْعَجْلَانِيَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وجدَ معَ امرأتِہِ رجُلاً أيقْتُلُہ فيَقْتُلُونہ؟ أمْ كَيفَ أفعل؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((قدْ أُنْزِلُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْہَبْ فَأْتِ بِہَا)) قَالَ سَہْلٌ: فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْہَا يَا رسولَ اللہِ إِن أَمْسكْتُہا فطلقتہا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: انْظُرُوا فَإِنْ جَاءَتْ بِہِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَلَا أَحسب عُوَيْمِر إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْہَا وَإِنْ جَاءَتْ بِہِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّہُ وَحَرَةٌ فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْہَا فَجَاءَتْ بِہِ عَلَی النَّعْتِ الَّذِي نَعْتُ رَسُولِ اللہِ ﷺ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ فَكَانَ بَعْدُ يُنْسَبُ إِلَی أمہ

سہل بن سعد ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ عویمر عجلانی نے عرض کیا،اللہ کے رسول! اس شخص کے بارے میں بتائیں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے،کیا وہ اسے قتل کر دے،اس صورت میں وہ (مقتول کے ورثاء) اس کو قتل کر دیں گے یا اسے کیا کرنا چاہیے؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں حکم نازل ہو چکا ہے،تم اسے لے کر آؤ۔‘‘ سہل بیان کرتے ہیں،ان دونوں نے مسجد میں لعان کیا،اور میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھا،جب وہ دونوں فارغ ہوئے تو عویمر نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں اسے رکھ لوں تو اس کا مطلب ہو گا میں نے اس پر جھوٹ باندھا،اس نے اسے تین طلاقیں دے دیں،پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’انتظار کرو اور دیکھو اگر وہ سیاہ رنگ،موٹی موٹی اور خوب سیاہ آنکھوں والے،سرین بڑے بڑے اور موٹی موٹی پنڈلیوں والے بچے کو جنم دے تو پھر میں سمجھوں گا کہ عویمر نے اس کے متعلق سچ کہا ہے،اور اگر وہ سرخ رنگ کا ہوا،گویا کہ وہ زہریلی چھپکلی ہے تو میں سمجھوں گا کہ عویمر نے اس عورت پر جھوٹ باندھا ہے۔‘‘ اس عورت نے اس طرح کے بچے کو جنم دیا جس طرح کی صفات رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عویمر کی تصدیق کے متعلق بیان فرمائی تھیں،اس کے بعد اس بچے کو اس کی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔متفق علیہ۔