Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3306 (مشکوۃ المصابیح)

[3306] متفق علیہ، رواہ البخاري (5350) و مسلم (1493/5)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْہُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: ((حِسَابُكُمَا عَلَی اللہِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْہَا)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ مَالِي قَالَ: ((لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْہَا فَہُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِہَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْہَا فَذَاكَ أَبْعَدُ وَأبْعد لَك مِنْہَا))

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لعان کرنے والوں سے فرمایا:’’تمہارا حساب اللہ کے ذمہ ہے،تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے،اب تمہارا اس (عورت) پر کوئی حق نہیں۔‘‘ اس (آدمی) نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا مال (جو مہر میں دیا تھا)؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تمہیں مال کا کوئی حق نہیں،اگر تم نے اس کے متعلق سچی بات کی ہے تو وہ (مال) اس کا بدل ہے جو تم نے اس سے ہمبستری کی ہے،اور اگر تم نے اس کے متعلق جھوٹی بات کی ہے تو پھر اس (مہر) کا لوٹنا تمہارے لیے بعید ہے اور تیرا اس سے مطالبہ کرنا بھی بعید ہے۔‘‘ متفق علیہ۔