Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3305 (مشکوۃ المصابیح)
[3305] متفق علیہ، رواہ البخاري (5315) و مسلم (1494/8، 1493/4)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَاعن بَين رجل وَامْرَأَتہ فانتقی مِنْ وَلَدِہَا فَفَرَّقَ بَيْنَہُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْہِ. وَفِي حَدِيثِہِ لَہُمَا أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ وَعَظَہُ وَذَكَّرَہُ وَأَخْبَرَہُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَہْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ ثُمَّ دَعَاہَا فَوَعَظَہَا وَذَكَّرَہَا وَأَخْبَرَہَا أَنَّ عَذَاب الدُّنْيَا أَہْون من عَذَاب الْآخِرَة
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا،اس (آدمی) نے اس کے بچے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ نے ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور بچے کو عورت کے حوالے کر دیا۔ اور ابن عمر ؓ کی صحیحین کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے شوہر کو وعظ و نصیحت کی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو بلایا اور اسے بھی وعظ و نصیحت کی اور اسے بھی بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔‘‘ متفق علیہ۔