Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3450 (مشکوۃ المصابیح)

[3450] متفق علیہ، رواہ البخاري (6872) و مسلم (96/158)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی أُنَاسٍ مِنْ جُہَيْنَةَ فَأَتَيْتُ عَلَی رَجُلٍ مِنْہُمْ فَذَہَبْتُ أَطْعَنُہُ فَقَالَ: لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ فَطَعَنْتُہُ فَقَتَلْتُہُ فَجِئْتُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ: ((أقَتلتَہ وقدْ شَہِدَ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ؟)) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ تَعَوُّذًا قَالَ: ((فہَلاَّ شقَقتَ عَن قلبہ؟))

اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں جہینہ قبیلے کی طرف روانہ فرمایا،میں ان کے ایک آدمی کے مقابل آیا تو میں نے اس پر نیزے کا وار کرنا چاہا تو اس نے کلمہ پڑھ لیا،لیکن میں نے اس پر وار کر کے اسے قتل کر دیا،میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا تم نے اسے قتل کر دیا حالانکہ اس نے گواہی دے دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس نے تو محض جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا تھا،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم نے کیا اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا؟‘‘ متفق علیہ۔