Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3542 (مشکوۃ المصابیح)

[3542] إسنادہ حسن، رواہ أبو داود (2675)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنْ أَبِيہِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِہِ فَرَأَيْنَا حُمْرَةً مَعَہَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْہَا فَجَاءَتِ الْحُمْرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرُشُ فَجَاءَ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ: ((مَنْ فَجَعَ ہَذِہِ بِوَلَدِہَا؟ رُدُّوا وَلَدَہَا إِلَيْہَا)) . وَرَأَی قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاہَا قَالَ: ((مَنْ حَرَّقَ ہَذِہِ؟)) فَقُلْنَا: نَحْنُ قَالَ: ((إِنَّہُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلاَّ ربُّ النَّار)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

عبدالرحمٰن بن عبداللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں،ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے،آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا (سرخ رنگ کی چڑیا) دیکھی،اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے،ہم نے اس کے بچے پکڑ لیے تو وہ پھڑ پھڑانے لگی،اتنے میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کس شخص نے اسے،اس کے بچوں کی وجہ سے بے قرار کر دیا؟ اس کے بچے اسے واپس کرو۔‘‘ اور آپ نے چیونٹیوں کا ایک مسکن دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اسے کس نے جلایا ہے؟‘‘ ہم نے عرض کیا: ہم نے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے لائق ہے۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ ابوداؤد۔