Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3543 (مشکوۃ المصابیح)
[3543] سندہ ضعیف، رواہ أبو داود (4765) ٭ قتادۃ عنعن .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ: سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ قَوْمٌ يُحسِنونَ القيلَ ويُسيئونَ الفِعلَ يقرؤون الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَہُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُروقَ السَّہمِ فِي الرَّمِيَّةِ لَا يَرْجِعُونَ حَتَّی يَرْتَدَّ السَّہْمُ عَلَی فُوقِہِ ہُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ طُوبَی لِمَنْ قَتَلَہُمْ وَقَتَلُوہُ يَدْعُونَ إِلَی كِتَابِ اللہِ وَلَيْسُوا منَّا فِي شيءٍ مَنْ قاتلَہم كَانَ أَوْلَی بِاللہِ مِنْہُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ مَا سِيمَاہُمْ؟ قَالَ: ((التَّحْلِيقُ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد
ابوسعید خدری ؓ اور انس بن مالک ؓ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میری امت میں عنقریب اختلاف و افتراق ہو گا۔ایک گروہ باتیں اچھی اچھی لیکن کام برے کرے گا۔وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل (کر پار ہو) جاتا ہے۔وہ دین کی طرف نہیں پلٹیں گے حتی کہ تیر اپنے سوفار (چٹکی جہاں کمان کا تانت ٹکتا ہے) پر واپس آ جائے۔وہ تمام مخلوق سے بدتر ہیں۔اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جو ان کو قتل کرتا ہے اور جسے وہ قتل کر دیں،وہ (بظاہر) اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دیں گے۔لیکن وہ کسی چیز میں بھی ہم میں سے نہیں ہوں گے،جس نے ان سے قتال کیا وہ ان (باقی امتیوں) سے اللہ کے زیادہ قریب ہے۔‘‘ صحابہ ؓ نے پوچھا: اللہ کے رسول! ان کی علامت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’سر منڈانا۔‘‘ سندہ ضعیف،رواہ ابوداؤد۔