Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3555 (مشکوۃ المصابیح)
[3555] متفق علیہ، رواہ البخاري (6633) و مسلم (25/ 1697۔ 1698)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ: أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ أَحَدُہُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللہِ وَقَالَ الْآخَرُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللہِ فاقْضِ بَيْننَا بكتابِ اللہ وائذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَ: ((تَكَلَّمْ)) قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَی ہَذَا فَزَنَی بِامْرَأَتِہِ فَأَخْبرُونِي أنَّ علی ابْني الرَّجْم فاقتديت مِنْہُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَہْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَی ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَی امْرَأَتِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللہِ أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ وَأَمَّا ابْنُكَ فَعَلَيْہِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ فَاغْدُ إِلَی امْرَأَةِ ہَذَا فَإِن اعْترفت فارجمہا)) فَاعْترفت فرجمہا
ابوہریرہ ؓ اور زید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمی مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان میں سے ایک نے عرض کیا،ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں،اور دوسرے نے عرض کیا: جی ہاں،اللہ کے رسول! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے بات کرنے کی اجازت فرمائیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’بات کرو۔‘‘ اس نے عرض کیا: میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدور تھا،اس نے اس کی اہلیہ کے ساتھ زنا کر لیا تو انہوں (یعنی بعض لوگوں) نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم (کی سزا لاگو ہوتی) ہے،لیکن میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور اپنی ایک لونڈی دے دی،پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور سال کی جلا وطنی (کی سزا) ہے،اور اس کی اہلیہ پر رجم ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا،رہی تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی وہ تمہیں واپس مل جائیں گی،رہا تمہارا بیٹا تو اس پر سو کوڑے اور سال کی جلا وطنی ہے اور اُنیس! تم اس عورت کے پاس جاؤ،اگر وہ اعترافِ جرم کر لے تو اسے رجم کر دو۔‘‘ اس نے اعتراف کر لیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔متفق علیہ۔