Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3598 (مشکوۃ المصابیح)

[3598] حسن، رواہ البغوي في شرح السنۃ (320/10۔ 321 بعد ح 2600 بدون سند) [و مالک (834/2۔ 835 ح 1624مرسل) و النسائي (69/8۔ 70ح 4887 حسن) و ابن ماجہ (2595حسن) و أبو داود (4394 وسندہ حسن) وغیرہم، وھو حسن بالشواھد]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَرُوِيَ فِي ((شَرْحِ السُّنَّةِ)): أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَہُ فَجَاءَ سَارِقٌ وَأَخَذَ رِدَاءَہُ فَأَخَذَہُ صَفْوَانُ فَجَاءَ بِہِ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَأَمَرَ أَنْ تُقْطَعَ يَدُہُ فَقَالَ صَفْوَانُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ ہَذَا ہُوَ عَلَيْہِ صَدَقَةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((فَہَلا قبل أَن تَأتِينِي بِہِ))

اور شرح السنہ میں مروی ہے کہ صفوان بن امیہ ؓ مدینہ آئے تو وہ اپنی چادر کا سرہانہ بنا کر مسجد میں سو گئے،ایک چور آیا اور اس نے ان کی چادر پکڑ لی تو انہوں نے اسے گرفتار کر لیا،اور وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے آئے،آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا تو صفوان ؓ نے عرض کیا،میں نے اس (قطع) کا ارادہ نہیں کیا تھا،وہ (چادر) اس (چور) پر صدقہ ہے۔رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ معاف کر دیا۔‘‘ حسن،رواہ البغوی فی شرح السنہ۔