Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3612 (مشکوۃ المصابیح)

[3612] سندہ ضعیف، رواہ أبو داود (4380) و النسائي (67/8 ح 4881) و ابن ماجہ (2597) والدارقطني (173/2 ح 2308) ٭ أبو المنذر لا یعرف و فی الباب حدیث النسائي (89/8۔ 90 ح 4980) وسندہ صحیح و صححہ الحاکم (380/4) وھو یغني عنہ .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَتَی بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَہُ مَتَاعٌ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((مَا أَخَالُكَ سَرَقْتَ)) . قَالَ: بَلَی فَأَعَادَ عَلَيْہِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يَعْتَرِفُ فَأَمَرَ بِہِ فَقُطِعَ وَجِيءَ بِہِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((اسْتَغْفِرِ اللہَ وَتُبْ إِلَيْہِ)) فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللہَ وَأَتُوبُ إِلَيْہِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((اللہُمَّ تُبْ عليہِ)) ثَلَاثًا. رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَالدَّارِمِيُّ ہَكَذَا وجدتُ فِي الْأُصُول الْأَرْبَعَة وجامع الْأُصُول وَشُعَبُ الْإِيمَانِ وَمَعَالِمُ السُّنَنِ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ

ابوامیہ مخزومی ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا،اس نے اعتراف جرم کر لیا لیکن اس سے مال برامد نہ ہوا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا:’’میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی۔‘‘ اس نے عرض کیا،کیوں نہیں،ضرور کی ہے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو یا تین مرتبہ یہ بات دہرائی لیکن وہ ہر مرتبہ اعتراف کرتا رہا،آپ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔اور پھر اسے آپ کے پاس لایا گیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا:’’اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کے حضور توبہ کرو۔‘‘ اس نے عرض کیا: میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا:’’اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔‘‘ اور میں نے اصول اربعہ،جامع الاصول،شعب الایمان اور معالم السنن میں ابوامیہ سے اسی طرح پایا ہے۔سندہ ضعیف،رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارقطنی۔