Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3611 (مشکوۃ المصابیح)

[3611] إسنادہ صحیح، رواہ أحمد (70/2 ح 5385) و أبو داود (3597) والبیھقي في شعب الإیمان (7673)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسلم يَقُول: ((مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُہُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللہِ فَقَدَ ضَادَّ اللہَ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَہُوَ يَعْلَمُہُ لَمْ يَزَلْ فِي سُخْطِ الہ تَعَالَی حَتَّی يَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيہِ أَسْكَنَہُ اللہُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّی يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ)) . رَوَاہُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَفِي روايةٍ للبيہقيِّ فِي شعبِ الْإِيمَان ((مَنْ أَعانَ علی خُصُومَةً لَا يَدْرِي أَحَقٌّ أَمْ بَاطِلٌ فَہُوَ فِي سَخطِ اللہِ حَتَّی ينْزع))

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’جس شخص کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے نفاذ کے آگے حائل ہو گئی تو اس نے اللہ کی مخالفت کی،جس نے جانتے ہوئے کسی باطل (ناحق) کے بارے میں جھگڑا کیا تو وہ اس سے دست کش ہونے تک اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں رہتا ہے اور جس نے کسی مومن پر بہتان لگایا تو وہ کچ لہو کے کیچڑ میں رہے گا حتی کہ وہ اس سے نکل آئے جو اس نے کہا ہے۔‘‘ احمد،ابوداؤد،اور بیہقی کی شعب الایمان میں ایک روایت ہے:’’جس نے کسی جھگڑے پر اعانت کی جبکہ وہ نہیں جانتا کہ وہ حق ہے یا باطل تو وہ اللہ کی ناراضی میں رہتا ہے حتی کہ وہ اس سے دست کش ہو جائے۔‘‘ اسنادہ صحیح،رواہ احمد و ابوداؤد و البیھقی۔