Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3666 (مشکوۃ المصابیح)
[3666] متفق علیہ، رواہ البخاري (7055۔ 7056) و مسلم (1709/42)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولِ اللہِ ﷺ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَہِ وَعَلَی أَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَعَلَی أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَہْلَہُ وَعَلَی أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللہِ لَوْمَةَ لَائِمٍ. وَفِي رِوَايَةٍ: وَعَلَی أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَہْلَہُ إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللہِ فِيہِ بُرْہَانٌ
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں،ہم نے تنگی و آسانی،نشاط و ناگواری،اپنے نظر انداز کیے جانے اور دوسروں کو ترجیح دیے جانے پر،امیر کو معزول نہ کرنے پر،ہر جگہ حق بات کرنے پر اور اللہ (کی رضا مندی کے معاملے) میں،ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے پر،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سمع و اطاعت اختیار کرنے پر بیعت کی۔اور ایک دوسری روایت میں ہے: جب تک ہم دلیل کے مطابق امیر میں اللہ کا صریح کفر نہ دیکھیں اس سے دستِ اطاعت نہ کھینچیں۔‘‘ متفق علیہ۔