Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3701 (مشکوۃ المصابیح)

[3701] حسن، رواہ أحمد (1/ 357 ح 3362) و الترمذي (2256 وقال: حسن غریب) و النسائي (195/7۔ 196 ح 4314) وأبو داود (2859) ٭ فیہ أبو موسی شیخ یماني: جھلہ ابن القطان وغیرہ و وثقہ ابن حبان والترمذي فھو حسن الحدیث و قال: ابن حجر فی التقریب: ’’مجھول من السادسۃ و وھم من قال إنہ إسرائیل بن موسی .‘‘ حدیث: من لزم السلطان افتتن إلخ رواہ أبو داود عن أبي ھریرۃ (2860) و فیہ شیخ من الأنصار: لم أعرفہ (فالسندضعیف)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ((مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ وَمَنْ أَتَی السُّلْطَانَ افْتُتِنَ)) . رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: ((مَنْ لَزِمَ السُّلْطَانَ افْتُتِنَ وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ دُنُوًّا إِلَّا ازْدَادَ من اللہِ بُعداً))

ابن عباس ؓ،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’جنگل میں رہنے والا سخت دل ہوتا ہے۔شکار کا پیچھا کرنے والا غافل ہوتا ہے اور بادشاہ کے پاس جانے والا فتنے کا شکار ہو جاتا ہے۔‘‘ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے:’’جو شخص بادشاہ کے ساتھ لگا رہتا ہے تو وہ فتنے کا شکار ہو جاتا ہے،جس قدر کوئی شخص بادشاہ کے قریب ہوتا ہے وہ اسی قدر اللہ سے دُور ہو جاتا ہے۔‘‘ حسن،رواہ الترمذی و احمد و النسائی و ابوداؤد۔