Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3743 (مشکوۃ المصابیح)

[3743] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (1322 ا وقال: غریب، لیس إسنادہ عندي بمتصل) ٭ فیہ عبد الملک بن أبي جمیلۃ: مجھول و السند منقطع .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ ابْنِ مَوْہَبٍ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اقْضِ بَين النَّاس قَالَ: أَو تعاقبني يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: وَمَا تَكْرَہُ مِنْ ذَلِك وَقد كَانَ أَبوك قَاضِيا؟ قَالَ: لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: ((مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَی بِالْعَدْلِ فَبِالْحَرِيِّ أَنْ يَنْقَلِبَ مِنْہُ كَفَافًا)) . فَمَا راجعَہ بعدَ ذَلِك. رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ

ابن موہب سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان ؓ نے ابن عمر ؓ سے فرمایا:’’لوگوں کے درمیان قاضی بننا قبول کرو۔انہوں نے کہا: امیر المومنین! آپ مجھے معاف نہیں فرما دیتے؟ انہوں نے فرمایا: آپ اسے ناپسند کیوں کرتے ہیں،جبکہ آپ کے والد فیصلے کیا کرتے تھے۔انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’جو شخص قاضی ہو اور وہ انصاف سے فیصلے کرے تو یہ زیادہ لائق ہے کہ وہ (قاضی) سے برابر برابر رہ جائے۔‘‘ عثمان ؓ نے اس کے بعد انہیں نہیں کہا۔اسنادہ ضعیف،رواہ الترمذی۔