Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3744 (مشکوۃ المصابیح)
[3744] ضعیف، رواہ رزین (لم أجدہ) ٭ ولہ شاھد عند أحمد (66/1 ح 475) و سندہ ضعیف، فیہ أبو سنان عیسی بن سنان القسملي ضعیف و شاھد آخر عند الترمذي (1322 ا، انظر الحدیث السابق) وسندہ ضعیف .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَفِي رِوَايَةِ رَزِينٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ لِعُثْمَانَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا أَقْضِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ: قَالَ: فَإِنَّ أَبَاكَ كَانَ يَقْضِي فَقَالَ: إِنَّ أَبِي لَوْ أُشْكِلَ عَلَيْہِ شَيْءٌ سَأَلَ رَسُولَ اللہِ ﷺ وَلَوْ أُشْكِلَ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ شَيْءٌ سَأَلَ جِبْرِيلَ عَلَيْہِ السَّلَامُ وَإِنِّي لَا أَجِدُ مَنْ أَسْأَلُہُ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: ((مَنْ عَاذَ بِاللہِ فَقَدْ عَاذَ بِعَظِيمٍ)) . وَسَمِعْتُہُ يَقُولُ: ((مَنْ عَاذَ بِاللہِ فَأَعِيذُوہُ)) . وَإِنِّي أَعُوذُ باللہِ أنْ تجعلَني قاضِياً فأعْفاہُ وَقَالَ: لَا تُخبرْ أحدا
رزین کی نافع کی سند سے مروی روایت میں ہے کہ ابن عمر ؓ نے عثمان ؓ سے فرمایا: امیر المومنین! میں دو آدمیوں کے درمیان بھی فیصلہ نہیں کروں گا،انہوں نے فرمایا: آپ کے والد تو فیصلہ کیا کرتے تھے۔انہوں نے کہا: میرے والد کو کسی مسئلہ میں اشکال ہوتا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ لیا کرتے تھے،اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی مسئلہ میں الجھن ہوتی تو وہ جبریل سے پوچھ لیتے تھے،جبکہ میں ایسا کوئی شخص نہیں پاتا جس سے میں پوچھ لوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’جس نے اللہ کی پناہ حاصل کی تو اس نے ایک عظیم ذات کی پناہ حاصل کی۔‘‘ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کر لے تو اسے پناہ دے دو۔‘‘ اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم مجھے قاضی بناؤ۔انہوں نے اس سے درگزر کیا اور فرمایا: کسی کو نہ بتانا۔ضعیف،رواہ رزین۔