Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3825 (مشکوۃ المصابیح)
[3825] صحیح، رواہ الترمذي (1657 و قال: صحیح) و أبو داود (2541) و النسائي (25/6 ح 3153)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن معاذِ بن جبلٍ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: ((مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللہِ فَوَاقَ نَاقَةٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّةُ وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللہِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّہَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ لَوْنُہَا الزَّعْفَرَانُ وَرِيحُہَا الْمِسْكُ وَمَنْ خَرَجَ بِہِ خُرَاجٌ فِي سَبِيلِ اللہِ فَإِنَّ عَلَيْہِ طَابَعُ الشُّہَدَاءِ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’جس شخص نے ’’فواق ناقہ‘‘ (اونٹنی کا دودھ دھوتے وقت جب ایک بار تھن دبا کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور پھر دوبارہ اسے دبایا جاتا ہے تو اس دوبارہ دبانے کے درمیانی وقفے) کے برابر اللہ کی راہ میں جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی،اور جس شخص کو اللہ کی راہ میں زخم لگا،یا وہ کسی حادثہ کا شکار ہوا تو وہ (زخم) جس قدر (دنیا میں) تھا اس سے کہیں زیادہ ہو کر روزِ قیامت آئے گا،اس کا رنگ زعفران کا سا ہو گا اور اس کی خوشبو کستوری کی ہو گی،اور جس شخص کو اللہ کی راہ میں کوئی پھوڑا نکلا تو اس پر شہداء کی مہر و علامت ہو گی۔‘‘ صحیح،رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی۔