Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3852 (مشکوۃ المصابیح)
[3852] رواہ مسلم (146/ 1902)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ)) فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْہَيْئَةِ فَقَالَ: يَا أَبَا مُوسَی أَنْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ ہَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ فَرَجَعَ إِلَی أَصْحَابِہِ فَقَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِہِ فَأَلْقَاہُ ثُمَّ مَشَی بِسَيْفِہِ إِلَی الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِہِ حَتَّی قُتِلَ. رَوَاہُ مُسلم
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ہیں۔‘‘ (یہ سن کر) ایک فقیر الحال شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: ابوموسیٰ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں،وہ شخص اپنے ساتھیوں کی طرف پلٹا اور کہا: میرا تمہیں سلام پہنچے،پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینک دی اور اپنی تلوار لے کر دشمن کی طرف بڑھا،اور وہ اس کے ساتھ قتال کرتے کرتے شہید ہو گیا۔رواہ مسلم (۱۴۶ / ۱۹۰۲)۔