Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3963 (مشکوۃ المصابیح)
[3963] متفق علیہ، رواہ البخاري (3043 والروایۃ الثانیۃ: 3804) و مسلم (64/ 1769)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ عَلَی حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَعَثَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِليہ فَجَاءَ عَلَی حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((قُومُوا إِلَی سَيِّدِكُمْ)) فَجَاءَ فَجَلَسَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((إِنَّ ہَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَی حُكْمِكَ)) . قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تَقْتُلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَی الذُّرِّيَّةُ. قَالَ: ((لَقَدْ حَكَمْتَ فِيہِمْ بحُكْمِ المَلِكِ)) . وَفِي رِوَايَة: ((بِحكم اللہ))
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں،جب بنو قریظہ سعد بن معاذ ؓ کے فیصلے پر رضا مند ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاذ ؓ کو پیغام بھیجا تو وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے،جب وہ قریب آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اپنے سردار کا استقبال کرو۔‘‘ چنانچہ وہ آئے اور بیٹھ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’یہ لوگ تمہارے فیصلے پر رضا مند ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: میں فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجو قتل کر دیے جائیں اور بچے قیدی بنا لیے جائیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تم نے ان کے درمیان اللہ بادشاہ کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے:’’اللہ کے حکم کے مطابق (فیصلہ کیا ہے)۔‘‘ متفق علیہ۔