Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3962 (مشکوۃ المصابیح)

[3962] متفق علیہ، رواہ البخاري (3051) ومسلم (45/ 1754)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْہُ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ ہَوَازِنَ فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّی مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ فَأَنَاخَہُ وَجَعَلَ يَنْظُرُ وَفِينَا ضَعْفَةٌ وَرِقَّةٌ مِنَ الظَّہْرِ وَبَعْضُنَا مُشَاةٌ إِذْ خَرَجَ يَشْتَدُّ فَأَتَی جَمَلَہُ فَأَثَارَہُ فَاشْتَدَّ بِہِ الْجَمَلُ فَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ حَتَّی أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُہُ ثُمَّ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَضَرَبْتُ رَأْسَ الرَّجُلِ ثُمَّ جِئْتُ بِالْجَمَلِ أَقُودُہُ وَعَلَيْہِ رَحْلُہُ وَسِلَاحُہُ فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولِ اللہِ ﷺ وَالنَّاسُ فَقَالَ: ((مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟)) قَالُوا: ابْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ: ((لَہُ سَلَبُہُ أَجْمَعُ))

سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں،ہم نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہوازن قبیلے سے جہاد کیا،اس اثنا میں کہ ہم چاشت کے وقت رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے ایک آدمی سرخ اونٹ پر آیا تو اس نے اسے بٹھا دیا اور وہ جائزہ لینے لگا،اس وقت ہم میں ضعف و سستی تھی،سواریاں کم تھیں جبکہ ہم میں سے بعض پیادہ تھے،وہ آدمی اچانک ہمارے بیچ میں سے نکلا تیزی سے اپنے اونٹ کے پاس آیا اسے کھڑا کیا اور اونٹ اسے تیزی کے ساتھ لے گیا،میں بھی تیزی سے روانہ ہوا حتی کہ میں نے اونٹ کی لگام پکڑ لی،اسے بٹھایا پھر میں نے اپنی تلوار سونت لی،میں نے اس آدمی کا سر قلم کر دیا اور اونٹ لے آیا،اس کا سازو سامان اور اس کا اسلحہ بھی اس پر لے آیا،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ نے میرا استقبال کیا،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اس آدمی کو کس نے قتل کیا؟ صحابہ نے بتایا: ابن اکوع نے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اس کا سارا سازو سامان اس کے لیے ہے۔‘‘ متفق علیہ۔