Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3970 (مشکوۃ المصابیح)
[3970] إسنادہ حسن، رواہ أحمد (276/6 ح 26894) و أبو داود (2692)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ: لَمَّا بَعَثَ أَہْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أُسَرَائِہِمْ بَعَثَتْ زَيْنَبُ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بِمَالٍ وَبَعَثَتْ فِيہِ بِقِلَادَةٍ لَہَا كَانَتْ عِنْدَ خَدِيجَةَ أَدْخَلَتْہَا بِہَا عَلَی أَبِي الْعَاصِ فَلَمَّا رَآہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ رَقَّ لَہَا رِقَّةً شَدِيدَةً وَقَالَ: ((إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَہَا أَسِيرَہَا وَتَرُدُّوا عَلَيْہَا الَّذِي لَہَا)) فَقَالُوا: نَعَمْ وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ أَخَذَ عَلَيْہِ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَ زَيْنَبَ إِلَيْہِ وَبَعَثَ رَسُولُ اللہِ ﷺ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: ((كونا ببطنِ يأحج حَتَّی تَمُرَّ بِكُمَا زَيْنَبُ فَتَصْحَبَاہَا حَتَّی تَأْتِيَا بہَا)) . رَوَاہُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں،جب مکہ والوں نے اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے فدیہ بھیجا تو زینب ؓ نے ابوالعاص (اپنے خاوند) کے فدیہ میں مال بھیجا اور اس میں اپنا ہار بھی بھیجا جو خدیجہ ؓ کا تھا جو انہوں نے انہیں ابوالعاص کے ساتھ شادی کے موقع پر عطا کیا تھا،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس (ہار) کو دیکھا تو ان (زینب ؓ) کی خاطر آپ پر شدید رقت طاری ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اگر تم مناسب سمجھو تو اس کی خاطر قیدی کو رہا کرو اور اس کا ہار بھی واپس کر دو۔‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا: (اللہ کے رسول!) ٹھیک ہے،اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوالعاص سے یہ عہد لیا کہ وہ زینب کو میرے پاس (مدینہ) آنے کی اجازت دے دے،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید بن حارثہ ؓ اور انصار کے ایک آدمی کو (مکہ) بھیجا تو فرمایا:’’تم دونوں یا حج کے مقام پر ہونا حتی کہ زینب تمہارے پاس سے گزریں تو تم اس کے ساتھ ہو لینا حتی کہ تم انہیں (یہاں مدینہ) لے آنا۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ احمد و ابوداؤد۔