Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3976 (مشکوۃ المصابیح)
[3976] رواہ البخاري (7189)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ ﷺ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَی بَنِي جَذِيمَةَ فَدَعَاہُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا: أَسْلَمْنَا فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: صَبَأْنَا صَبَأْنَا فجعلَ خالدٌ يقتلُ ويأسِرُ وَدَفَعَ إِلَی كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَہُ حَتَّی إِذَا كَانَ يَوْمٌ أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَہُ فَقُلْتُ: وَاللہِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أسيرہ حَتَّی قدمنَا إِلَی النَّبِي صلی اللہ عَلَيْہِ وَسلم فذكرناہُ فَرَفَعَ يَدَيْہِ فَقَالَ: ((اللہُمَّ أَنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صنعَ خالدٌ)) مرَّتينِ. رَوَاہُ البُخَارِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خالد بن ولید ؓ کو بنو جذیمہ کی طرف بھیجا،انہوں نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی،انہوں نے واضح طور پر (لفظ اَسْلَمْنَا) ہم نے اسلام قبول کر لیا نہ کہا،بلکہ انہوں نے (لفط صَبأْنا) ہم بے دین ہوئے کہا،اس پر خالد ؓ انہیں قتل کرنے لگے اور قیدی بنانے لگے،اور انہوں نے ہم میں سے ہر شخص کو اس کا قیدی دیا حتی کہ ایک روز ایسے ہوا کہ انہوں نے حکم دیا کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کرے،میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنا قیدی قتل کروں گا نہ میرا کوئی ساتھی اپنے قیدی کو قتل کرے گا،حتی کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ سے اس کا ذکر کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دو مرتبہ فرمایا:’’اے اللہ! خالد نے جو کیا میں اس سے تیرے حضور براءت کا اعلان کرتا ہوں۔‘‘ رواہ البخاری۔