Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3977 (مشکوۃ المصابیح)

[3977] متفق علیہ، رواہ البخاري (3171) و مسلم (82/ 336) و الترمذي (1579)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَن أم ہَانِئ بنت أَي طالبٍ قالتْ: ذہبتُ إِلی رسولِ اللہ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُہُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُہُ تَسْتُرُہُ بِثَوْبٍ فَسَلَّمْتُ فَقَالَ: ((مَنْ ہَذِہِ؟)) فَقُلْتُ: أَنَا أُمُّ ہَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: ((مَرْحَبًا بِأُمِّ ہَانِئٍ)) فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِہِ قَامَ فَصَلَّی ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّہُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُہُ فُلَانَ بْنَ ہُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أم ہَانِئ)) قَالَت أُمَّ ہَانِئٍ وَذَلِكَ ضُحًی. مُتَّفَقٌ عَلَيْہِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: قَالَتْ: أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((قد أمنا من أمنت))

ام ہانی بنت ابی طالب ؓ بیان کرتی ہیں،میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا جبکہ آپ کی بیٹی فاطمہ ایک کپڑے سے آپ کو پردہ کیے ہوئے تھیں،میں نے سلام عرض کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’یہ کون ہے۔‘‘ میں نے (خود) عرض کیا: میں ام ہانی بنت ابی طالب ہوں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’ام ہانی کے لیے خوش آمدید۔‘‘ جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غسل سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے،اور ایک کپڑے میں لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں،پھر آپ فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں کے بیٹے علی ارادہ رکھتے ہیں،کہ وہ ایک شخص فلان بن ہبیرہ کو قتل کر دیں جبکہ میں نے اس کو پناہ دی ہے،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’ام ہانی! تم نے جسے پناہ دی،ہم نے بھی اسے پناہ دی۔‘‘ ام ہانی بیان کرتی ہیں: یہ چاشت کا وقت تھا۔بخاری،مسلم۔اور ترمذی کی روایت میں ہے: وہ بیان کرتی ہیں،میں نے خاوند کے رشتہ داروں میں سے دو آدمیوں کو امان دی،تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تم نے جسے امان دی،ہم نے بھی اسے امان دی۔‘‘ متفق علیہ و الترمذی۔