Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3984 (مشکوۃ المصابیح)

[3984] ضعیف، رواہ أحمد (390/1۔ 391 ح 3708) ٭ المسعودي اختلط: روی عنہ یزید بن ھارون و أبو النضر ھاشم بن القاسم و عبد الرحمٰن بن مھدي و تابعہ سفیان الثوري و سندہ ضعیف و لحدیثہ شواھد ضعیفۃ عند أبي داود (2762) وغیرہ .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ ابْنُ النَّوَّاحَةِ وَابْنُ أُثَالٍ رَسُولَا مُسَيْلِمَةَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ لَہُمَا: ((أَتَشْہَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللہِ؟)) فَقَالَا: نَشْہَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولَ اللہِ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ((آمَنْتُ بِاللہِ وَرَسُولِہِ وَلَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُولًا لَقَتَلْتُكُمَا)) . قَالَ عَبْدُ اللہِ: فَمَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ الرَّسول لَا يُقتَلُ. رَوَاہُ أَحْمد

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں،ابن نواحہ اور ابن اثال مسیلمہ کے قاصد بن کر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا:’’کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟‘‘ انہوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے۔نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں،اگر میں کسی قاصد کو قتل کرنے والا ہوتا تو میں تمہیں قتل کر دیتا۔‘‘ عبداللہ ؓ نے فرمایا: یہ سنت بن گئی کہ قاصد کو قتل نہیں کیا جائے۔ضعیف،رواہ احمد۔